تشکرنیوز: نیپرا نے کے الیکٹرک کی جنریشن ٹیرف درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسے کے الیکٹرک کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا براہ راست اثر صارفین کے بجلی کے بلوں پر نہیں پڑے گا۔
بھارت میں سمندری طوفان کا خطرہ، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل
ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نیپرا کے فیصلے سے کمپنی کے جامع سرمایہ کاری پلان کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ منظور شدہ ٹیرف ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کے الیکٹرک نے کراچی کے پاور انفرااسٹرکچر میں 4 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور اب وہ ڈسٹری بیوشن، ٹرانسمیشن، اور سپلائی ٹیرف کو حتمی شکل دینے کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
نیپرا نے کے الیکٹرک کے 7 سالہ جنریشن ٹیرف کی منظوری دی ہے، جو "ٹیک اور پے” کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، کمپنی کو کپیسٹی پیمنٹ کرنی ہوگی۔ تاہم، نیپرا کے ممبر ٹیرف مطہر نیاز رانا نے "ٹیک اور پے” کی بنیاد پر ایل این جی اور ڈیزل پاور پلانٹس کے لیے ٹیرف دینے پر اختلافی نوٹ دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس سے کراچی کے صارفین پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔
نیپرا نے مختلف فیولز پر جنریشن ٹیرف کی منظوری بھی دی ہے، جس کے مطابق ڈیزل پر 44.33 سے 50.75 روپے فی یونٹ، ایل این جی پر 20.67 سے 41.75 روپے فی یونٹ، فرنس آئل پر 33.31 سے 34.64 روپے فی یونٹ، اور گیس پر 6.83 سے 9.62 روپے فی یونٹ ٹیرف مقرر کیا گیا ہے۔
