تشکر نیوز: ضلع وسطی میں کچرا کنڈیوں کے خاتمے کے لیے گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا نظام متعارف کرنے اور شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے پیلے اسٹیکرز لگانے اور 200 سوشل موبلائزرز کی بھرتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر سید امتیاز علی شاہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آپریشن طارق نظامانی، گینسو کمپنی کے نمائندے، اور متعلقہ افسران شریک تھے۔
خیرپور پولیس کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، بین الصوبائی اسلحہ اسمگلنگ گروہ کا کارندہ گرفتار
اجلاس میں ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے کہا کہ گینسو کمپنی کی جانب سے گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا معاہدہ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس کے تحت تمام زونز میں شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے گھروں پر پیلے اسٹیکر لگائے جائیں گے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ ان کے علاقے میں سالڈ ویسٹ کا عملہ کب آئے گا۔ نہ آنے کی صورت میں شہری دیے گئے نمبر پر رابطہ کر سکیں گے۔
ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے گینسو کمپنی کو ہدایت کی کہ وہ سینیٹری ورکرز اور مشینری کی کمی کو جلد پورا کرے، جبکہ سینیٹری ورکرز کی بھرتی اور ان کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ایک نجی کمپنی کے ساتھ معاہدہ بھی زیر غور ہے تاکہ ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی ہو اور غیر حاضری کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کچرا پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ضلع وسطی میں ہر زون کی ایک یوسی کو ماڈل یوسی بنایا جائے گا، جس کے ذریعے کچرا کنڈیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی نے اجلاس میں کہا کہ سینیٹری ورکرز اور مشینری کی روزانہ تعیناتی کا پلان فراہم کیا جائے تاکہ سالڈ ویسٹ کی ٹیم کو مزید مدد فراہم کی جا سکے۔
