تشکر نیوز: کراچی میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف رواداری مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ تحریک لبیک پاکستان بھی اسی مقام پر ریلی کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان دونوں صورتحال کے پیش نظر، پولیس نے سپر ہائی وے سمیت شہر کی کئی شاہراہوں پر ناکہ بندی کردی ہے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر 20 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار کا مظاہروں کے حوالے سے بیان
رواداری مارچ کا مقصد عمرکوٹ کے ڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی لاش کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ اس مارچ میں ڈاکٹر شاہنواز کے اہل خانہ کو بھی شامل ہونا تھا۔ مارچ کی سربراہ سندھو نواز نے بتایا کہ گزشتہ رات حیدرآباد میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ اس کے علاوہ قوم پرست رہنما نیاز کالانی اور ریاض چانڈیو کے گھروں پر بھی چھاپے مار کر انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔
رواداری مارچ کے شرکا کو کراچی کے علاقے تین تلوار سے پریس کلب تک جانا تھا، جس کے لیے انسانی حقوق کمیشن، روادری تحریک، عورت مارچ، اقلیتی مارچ، اور وومین ڈیموکریٹک فرنٹ سمیت کئی تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب، تحریک لبیک پاکستان نے بھی تین تلوار سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے اور اپنے کارکنوں کو اس مقام پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس نے شارع فیصل پر ایف ٹی سی کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، جبکہ ریلی کے مقام تین تلوار کو بھی چاروں طرف سے بند کر دیا ہے۔ پریس کلب کے راستے بھی بند کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے صحافیوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔
پولیس نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت راستے بند کیے گئے ہیں، اور مزید تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جس کے بعد حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔ ٹول پلازہ پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور مرکزی شاہراہوں بشمول ایف ٹی سی کے پاس ناکے لگائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں دفعہ 144 کے باوجود دو ریلیوں کے انعقاد کے اعلان کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے، جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کے خلاف سندھ رواداری مارچ اور پولیس کے حق میں ناموس رسالت مارچ شامل ہیں۔ انتظامیہ نے شہر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر کے ہر قسم کے جلسے، جلوس، اور ریلیوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔
