تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
کراچی: 22 دسمبر2023ء سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر ڈی آئی جی کو رپورٹ کے ساتھ ذاتی حیثیت میںطلب کرلیا۔سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ لاپتا شہری کی بازیابی کے ل کیا اقدامات کیے گئے ہیں پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آئی او کا تبادلہ ہوگیا ہے یہ نئے آئی او تعینات ہوئے ہیں کیس کی انویسٹی گیشن کر رہے ہیں اور جے آئی ٹی اجلاس ہونا ہے پولیس نے بتایا کہ کیس کا چالان دو سال پہلے ہوا تھا چھان بین جاری ہے۔شہری کی بہن نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا میرا اکلوتا بھائی عبدالستار 12 سال سے لاپتا ہے والدہ کی وفات ہوگئی ہے اور والد بھی صحیح طرح سے چل نہیں سکتے ۔
والدہ کی وفات کے باعث ہم پیش نہیں ہوسکے تھے۔شہری کی بہن نے کہا 12 سالوں سے بھائی کا کوئی پتہ نہیں لگایا گیا پولیس اسٹیشن اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اگر اس کا کوئی جرم ہے تو اسے سامنے لایا جائے اور سزا دی جائے۔جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا آپ پریشان نہیں ہوں ہم آپ کو انصاف دلائیں گے عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کرتے ہوئے کہا دوسرے لاپتا شہری کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں تفتیشی افسر نے موقف اختیار کرتے ہوئے کیا 32 جے آئی ٹیز اور 17 صوبائی ٹاسک فورس اجلاس ہوچکے ہیں۔قرار رحمان سٹیل ٹان سے لاپتا ہوا تھا۔جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نت ایس پی سے استفسار کیا کہ 32 جے آئی ٹیز کے بعد کیا رپورٹ آئی ہی ایس پی انویسٹی گیشن نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کوئی سراغ نہیں لگایا گیا تلاش جاری ہے۔جسٹس امجد علی سہتو نے تفتیشی افسر پر اظہار برہم کرتے ہوئے کہا 32/32 جے آئی ٹیز کے باوجود بھی کوئی پیش رفت رپورٹ نہیں ہے ایس پی انویسٹی گیشن نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ 32 جے آئی ٹیز میں سے 4 جے آئی ٹیز میں شہری کے اہلخانہ پیش ہوئے 28 جے آئی ٹیز میں کوئی بھی نہیں آیا ۔عدالت نے تفتیشی افسر سے کہا شہری کے اہلخانہ پیش ہوں یا نہ ہوں شہری کو تلاش کرنا آپ کی ڈیوٹی ہے ۔عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی آئی جی کو پیش رفت رپورٹ کے ساتھ ذاتی حیثیت طلب کرلیا۔عدالت نے لاپتا شہریوں کی تلاش کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ڈیواسسز استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی۔
