تشکر نیوز: آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی صدارت میں پولیس ٹریننگ برانچ کے شعبوں میں توسیع اور تربیتی کورسز کو ڈیجیٹائز کرنے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز، اور دیگر اعلیٰ افسران نے بالمشافہ اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
سندھ پولیس بھرتیوں میں کرپشن کا انکشاف، لاڑکانہ میں اہلکاروں پر مقدمہ درج
اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریننگ نے پولیس ٹریننگ برانچ میں کی جانے والی اصلاحات، تربیتی کورسز کے ڈیجیٹائزیشن، اور ذیر تربیت اہلکاروں کے لیے متعارف کردہ آن لائن ایپلیکیشن "ٹریننگ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (TIMS)” کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس ایپلیکیشن کے ذریعے اہلکاروں کی حاضری، مسائل، اور تربیتی مواد کی مانیٹرنگ کو آسان بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، ایپلیکیشن میں ڈسٹنس لرننگ کی سہولت فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ٹریننگ اور ان کی ٹیم کو اس اقدام پر شاباش دی اور کہا کہ شعبہ ٹریننگ میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے شعبہ تفتیش کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور سرٹیفیکیشن آف انویسٹی گیشن، اکاؤنٹنٹ، اور استعداد کار کے فروغ جیسی سہولیات کو بھی ایپلیکشن میں شامل کرنے پر زور دیا۔

بعد ازاں، آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے شعبہ ٹریننگ کے ذیر تعمیر شعبے کا دورہ کیا اور جاری اکاؤنٹ کورس کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکاؤنٹ کورسز کا بنیادی مقصد مالی وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی ہے، تاکہ تھانے مالی طور پر مستحکم و خود مختار ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ نے تھانوں کو بجٹ، اہلکاروں کی ہیلتھ انشورنس، اور شعبہ تفتیش میں مالی الاؤنس فراہم کیے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر، آئی جی سندھ نے ذیر تربیت اہلکاروں کے سوالات کے جوابات بھی دیے اور ان سے امید ظاہر کی کہ وہ تربیت کے بعد تھانوں کے بجٹ کا درست اور شفاف استعمال یقینی بنائیں گے۔
