تشکر نیوز: پیرس اولمپکس میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی نے ان کے گاؤں میں خوشیوں کا سماں باندھ دیا۔ ارشد ندیم کی فتح کی خبر ان کے گاؤں میاں چنوں کے نزدیک ایک زرعی علاقے میں براہ راست نشر کی گئی، جس سے دیہاتیوں میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق، اس تاریخی لمحے کو ایک ڈیجیٹل پروجیکٹر کے ذریعے گاؤں کے لوگوں نے دیکھا، جب ارشد ندیم نے اولمپک میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے سونے کا تمغہ جیتا۔ ان کے بھائی محمد عظیم نے کہا کہ ارشد ندیم نے شاندار پرفارمنس کے ساتھ تاریخ رقم کی ہے اور ان پر فخر ہے۔
تاریخی کامیابی پر مسلح افواج کے سربراہان کی ارشد ندیم کو مبارکباد
گاؤں کے مرد ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے، نعرے لگاتے اور تالیاں بجاتے نظر آئے، جبکہ خواتین گھر کے اندر ایک چھوٹے ٹی وی کے گرد جمع ہو کر جیت کا جشن مناتی رہیں۔ ارشد ندیم کی والدہ رضیہ پروین نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بہترین کھیل کا مظاہرہ کرے گا، بیرون ملک جائے گا، اور پاکستان کا نام روشن کرے گا۔
ارشد ندیم نے 32 سالوں میں پاکستان کو پہلا اولمپک میڈل دلایا ہے، حالانکہ انہیں محدود وسائل اور خستہ حال سازوسامان کے ساتھ مشق کرنا پڑا۔ ان کے سابق کوچ رشید احمد نے کہا کہ ارشد ندیم نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام بلند کیا ہے، جبکہ ان کے بڑے بھائی شاہد ندیم نے بتایا کہ انہوں نے ارشد کو کرکٹ چھوڑ کر نیزہ بازی کی طرف راغب کیا۔
پرویز احمد ڈوگر، ریٹائرڈ مقامی اسپورٹس حکام، نے ارشد ندیم کی پیشہ ورانہ تربیت کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا، اور بتایا کہ پاکستان میں جیولین تھرو کی تربیت کے لیے مناسب سہولتیں نہیں ہیں۔
ارشد ندیم نے اپنے کامیاب تھرو کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد رنگ لائی ہے، اور انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی تھرو اولمپک ریکارڈ بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کی تھرو کرکے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ میڈل دلایا۔
