پاکستان کا 60 کروڑ ڈالر کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام تاخیر کا شکار، عالمی بینک نے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کر دی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — پاکستان کا 60 کروڑ ڈالر مالیت کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام تاحال عملی طور پر شروع نہ ہو سکا، حالانکہ عالمی بینک اس منصوبے کی منظوری پہلے ہی دے چکا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اہم حکومتی منظوریوں میں تاخیر اور ادارہ جاتی مسائل کے باعث منصوبہ غیر مؤثر صورتحال کا شکار ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا جیکب آباد میں گدھے پر تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس، قانونی کارروائی کی ہدایت

دستاویزات کے مطابق پروگرام کے تحت 2030 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 15 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس چھوٹ اور ٹیکس اخراجات میں 30 فیصد تک کمی لانے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محصولات اور اخراجات سے متعلق اصلاحات پر اب تک عملی کام شروع نہیں ہو سکا، جبکہ منصوبے کا پی سی ون تاحال سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) میں زیر غور ہے۔

دستاویز کے مطابق عالمی بینک نے منصوبے سے متعلق مجموعی خطرات کی سطح کو “بلند” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سیاسی و معاشی چیلنجز اصلاحاتی عمل میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جی ایس ٹی پورٹل کی بہتری، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ای گورننس کے اہداف پر خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث ٹیکس اصلاحات متاثر ہو رہی ہیں۔

اسی طرح بجلی سبسڈی کم کرنے سے متعلق اصلاحات تاحال ڈیزائننگ کے مرحلے میں ہیں، جبکہ بعض سرکاری اداروں میں رائٹ سائزنگ کا منصوبہ بھی کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے۔

عالمی بینک کے مطابق متعدد اہم عہدے خالی ہونے اور ادارہ جاتی صلاحیت کمزور ہونے کے باعث منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار متاثر ہے۔ اعداد و شمار کے نظام میں بہتری کے اہداف پر بھی عملی پیشرفت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا کہ اصلاحاتی ایجنڈا فی الحال کاغذی منصوبہ بندی تک محدود دکھائی دیتا ہے جبکہ عملی نفاذ سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی بینک نے دسمبر 2025 میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی تاکہ پاکستان میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!