ایران کی نئی سفارتی پیشکش، امریکا کو پابندیوں میں نرمی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز

واشنگٹن / تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) — امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک نئی سفارتی پیشکش سامنے رکھی ہے۔

دی راک کو کیلیفورنیا میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر چالان، گاڑی کے ٹینٹڈ شیشے وجہ بن گئے

رپورٹ کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ اگر امریکا ایران پر عائد معاشی پابندیاں نرم کرے اور خطے میں ممکنہ حملوں سے گریز کی ضمانت دے تو تہران آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات بعد میں کیے جا سکتے ہیں، جبکہ فوری ترجیح پابندیوں میں نرمی ہے۔

امریکی صدر نے اس تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیشکش سے مکمل طور پر مطمئن نہیں اور یہ واضح نہیں کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا یا نہیں۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کو اپنے “دھمکی آمیز اور توسیع پسندانہ رویے” میں تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی اور سفارتی حل کے لیے نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے منتقل کی گئی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں انہوں نے زور دیا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے۔ تہران کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کلیدی اور باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ عباس عراقچی حال ہی میں پاکستان کے دورے پر بھی آئے تھے جہاں مختلف علاقائی و سیکیورٹی امور پر بات چیت ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے عمان اور روس کے دورے بھی کیے، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔

دوسری جانب امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں عندیہ دیا تھا کہ مستقبل میں کسی بھی بات چیت کا انحصار زمینی ملاقاتوں کے بجائے فون یا محدود رابطوں تک بھی ہو سکتا ہے۔

One thought on “ایران کی نئی سفارتی پیشکش، امریکا کو پابندیوں میں نرمی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!