کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کمیونٹی پولیسنگ کراچی (CPK) کے تحت ایس ایس پی اے وی ایل سی کے دفتر میں قائم پہلے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح کیا۔
ایک اور سانحہ گل پلازہ تیار؟ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا خطرناک سلسلہ جاری
صوبائی وزیر داخلہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور کمیونٹی کے درمیان مضبوط رابطہ جرائم میں کمی اور معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کمیونٹی پولیسنگ کراچی (CPK) اور سیف سٹی پروجیکٹ کے حکام کے درمیان ملاقات کرائی جائے گی تاکہ تکنیکی اور انتظامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ سی پی کے کے کیمروں کی مرمت کے اخراجات سندھ حکومت سفارشات کی بنیاد پر برداشت کرے گی۔
وزیر داخلہ نے غیر قانونی اسلحہ، غیر مجاز وردیوں اور ٹنٹڈ شیشوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر جرائم کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
تقریب میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیا گیا ہے، جہاں جدید ANPR (Automatic Number Plate Recognition) کیمروں کی مدد سے مشتبہ گاڑیوں کی شناخت محض 30 سیکنڈ میں ممکن ہوگی، جس سے جرائم کی روک تھام اور فوری کارروائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی پولیسنگ ایک مؤثر ماڈل ہے جس کے ذریعے جرائم کی شرح میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے 40 تھانوں میں کیمروں کی تنصیب کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کرائم ڈیٹیکشن میں 60 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
سی پی کے کے چیف مراد سونی نے کہا کہ تنظیم کا مقصد کراچی کو محفوظ، صاف اور سرسبز بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی پی کے کے 18 سینٹرز شہر بھر میں فعال ہیں جو کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پولیس اور عوام کے باہمی تعاون سے کراچی کو ایک محفوظ اور مثالی شہر بنایا جائے گا۔

