سعودی عرب کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا ایک فوجی دستہ دو طرفہ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ائیر بیس پہنچ گیا ہے، جہاں اسے مشرقی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر اتفاق
سعودی وزارت دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کا حصہ ہے، جس کا مقصد دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان پیشہ ورانہ مہارت، عملی تیاری اور باہمی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
سعودی حکام کے مطابق اس تعیناتی کا مقصد نہ صرف دو طرفہ دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بھی تقویت دینا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2025 میں ریاض میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف تصور کیا جائے گا۔
اس معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دفاعی تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور سیکیورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے پر عملدرآمد تیز کیا گیا ہے، تاکہ خطے میں ممکنہ خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
