کراچی میں انسداد پولیو مہم کے مؤثر انعقاد کے لیے کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنرز، ضلعی ہیلتھ افسران اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہر بھر میں پولیو مہم کی تیاریوں، سیکیورٹی انتظامات اور صفائی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹیکس نظام نافذ
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 13 اپریل سے کیا جائے گا جو ایک ہفتے تک جاری رہتے ہوئے 19 اپریل تک مکمل کی جائے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران پانچ سال تک کے 25 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ مہم کی کامیابی کے لیے 23 ہزار سے زائد پولیو ورکرز فرائض انجام دیں گے۔
سیکیورٹی کے حوالے سے بھی جامع حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، جس کے تحت تقریباً 7 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ لیڈی پولیس کانسٹیبلز کو بھی مہم میں شامل کیا جائے گا تاکہ خواتین اور بچوں تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں کمشنر کراچی کو پولیو کوآرڈینیٹر سعود یعقوب نے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ ہائی رسک یونین کونسلز میں خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں 66 یونین کونسلوں میں مہم کے آغاز سے قبل صفائی کے خصوصی انتظامات یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے ہدایت دی کہ شہر میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پولیو وائرس کی موجودگی کا خدشہ زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ماحولیاتی نمونوں میں دو مقامات—ہجر کالونی اور سہراب گوٹھ—سے پولیو وائرس مثبت پایا گیا ہے، جس کے پیش نظر ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ رہ جانے والے اور ویکسین سے انکار کرنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور سوشل موبلائزرز کے ذریعے والدین کو آگاہی فراہم کی جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہے۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے باہمی تعاون سے مہم کو کامیاب بنایا جائے گا اور شہر کو پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
