کراچی (اسٹاف رپورٹر) – کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اپنے ڈیجیٹل اور کمرشل نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ بلنگ میں جان بوجھ کر ہیرا پھیری کے باعث ادارے کی آمدنی میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ادارے نے مارچ 2026 سے خصوصی ریکوری وینڈرز کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ اندرونی بدعنوانی کے خاتمے اور وصولیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
کراچی: کاکا گینگ کے 3 ڈاکو گرفتار
واٹر کارپوریشن کے مطابق فروری 2026 میں ادارے کی مجموعی وصولیاں 1 ارب 99 کروڑ 20 لاکھ روپے رہیں، جو اکتوبر 2025 میں 2 ارب 60 کروڑ 90 لاکھ روپے کی بلند ترین سطح سے نمایاں کم ہیں۔ کمی کی بنیادی وجوہات میں صنعتی بقایاجات کی اقساط کا اختتام، بعض اہلکاروں کی جانب سے بلوں میں جان بوجھ کر کمی اور ڈیجیٹل ادائیگی نظام میں منتقلی کے دوران پیش آنے والی مشکلات شامل ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد تقریباً 200 صنعتی صارفین نے 5 ارب روپے کے بقایاجات قسطوں میں ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا، جن کی وصولیاں جولائی 2025 سے شروع ہوئیں۔ اس دوران تقریباً 3 ارب روپے کے متنازعہ بقایاجات وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ اب بھی تقریباً 50 صنعتی صارفین 2 ارب روپے کے نادہندہ ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی اور کنکشن منقطع کرنے کی مہم جاری ہے۔
ادارے کے چیف کمرشل آفیسر حارث سرفراز نے انکشاف کیا کہ صنعتی اور بلک سیکٹر میں، جو ادارے کی 70 فیصد آمدنی کا ذریعہ ہیں، بعض اہلکار مالی فوائد کے عوض بلوں میں جان بوجھ کر کمی کر رہے تھے، جس سے ادارے کو مالی نقصان پہنچا۔
واٹر کارپوریشن میں طویل عرصے سے باقاعدہ اور منظم ریکوری نظام موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے وصولیوں میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ اسی وجہ سے مارچ 2026 سے یوٹیلیٹی سیکٹر کے تجربہ کار خصوصی ریکوری وینڈرز کو مقرر کیا گیا ہے، جو نادہندگان سے منظم وصولی، ہدفی رابطے اور ضرورت پڑنے پر کنکشن منقطع کرنے کے عمل میں مدد فراہم کریں گے۔
سی ای او احمد علی صدیقی نے کہا کہ ادارہ دعووں کے بجائے عملی اقدامات اور شفافیت کے ذریعے اپنی بہتری ثابت کرے گا اور اصلاحات کے اس عمل کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق ون لنک ڈیجیٹل نظام میں منتقلی کے باعث فروری 2026 تک صنعتی، بلک اور ریٹیل شعبوں کی تفصیلات مکمل نہیں ہو سکیں، تاہم یہ عمل 30 اپریل تک مکمل ہونے کے بعد مزید اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔
