کراچی (اسٹاف رپورٹر) – ناظم آباد نمبر 5 میں واقع مدرسہ جامع القرآن عثمان بن عفان کے باہر سیوریج کا مسئلہ شدید صورت اختیار کر گیا ہے۔ گٹر ابلنے کے باعث گندا پانی گلیوں، مدرسہ کے داخلی راستے اور آس پاس کے مکانات تک پھیل چکا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور والدین بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
کراچی: خواتین کو ہراساں کرنے والے ملزم گرفتار
مدرسہ انتظامیہ کے مطابق نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی طلبہ کی بڑی تعداد داخلوں کے لیے آ رہی ہے، تاہم گندے پانی اور بدبو کی وجہ سے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران خطرناک اور غیر محفوظ ماحول سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ اداروں بشمول کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو شکایات درج کرائی گئی ہیں، لیکن تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
والدین اور مدرسہ کے اساتذہ نے حکومتِ سندھ اور مرتضیٰ وہاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر علاقے میں سیوریج کے نظام کو درست کیا جائے تاکہ طلبہ کو صاف، محفوظ اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ والدین نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو مختلف وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے نہ صرف طلبہ بلکہ پورے علاقے کے مکین بھی متاثر ہوں گے۔
ماہرین صحت کے مطابق گندے پانی سے نہ صرف سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے بلکہ بچوں میں جلد اور معدے کی بیماریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
