کراچی: 27 فروری 2026ء – انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سی پی ایل سی کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور ادارے کی کارکردگی، مانیٹرنگ سسٹم اور ڈیٹا اینالسز میکنزم کا تفصیلی جائزہ لیا۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیس کا مؤثر استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کراچی پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن، 5 گرفتار
سی پی ایل سی کے چیف زبیر حبیب نے ادارے کی کارکردگی، اغواء برائے تاوان، گاڑیوں کی چوری و چھیننے، اسٹریٹ کرائم اور دیگر سنگین جرائم کی روک تھام میں سندھ پولیس کے ساتھ مشترکہ اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم سمیت دیگر جرائم میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور سندھ پولیس نے کچے میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
آئی جی سندھ نے زور دیا کہ جدید اور فیس لیس پولسنگ کی طرف گامزن ہونا ناگزیر ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کے بعد جرائم کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے وائٹ کالر کرائم کی بیخ کنی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیس کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
سی پی ایل سی کی مرکزی اور ضلعی کمیٹیاں اگلے تین سال کے لیے تعینات کی گئی ہیں اور ان کے 135 ارکان کو سندھ حکومت نے باقاعدہ نوٹیفائی کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے سی پی ایل سی اور سندھ پولیس کے درمیان مربوط کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دیا تاکہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔
ترجمان سندھ پولیس سید سعد علی کے مطابق، دونوں ادارے مل کر کراچی میں سیف سٹی منصوبے کو کامیاب بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے جدید حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

