کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں ہل پارک سمیت شہر کے دیگر پارکس میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
منگھوپیر فائرنگ واقعات کا وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا، رپورٹ طلب، ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت
درخواست جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے سندھ اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق اور دیگر کی طرف سے عثمان فاروق ایڈوکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں سندھ حکومت، میئر کراچی اور ڈائریکٹر جنرل پارکس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہل پارک میں کھدائی، باؤنڈری وال اور دیگر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں جو مبینہ طور پر عدالتی احکامات اور قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق پارک کے اندر نجی ادارے کے ذریعے کمرشل سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کے ایم سی کی جانب سے جاری کیے گئے دو این او سیز منسوخ کیے جائیں جبکہ تمام تعمیرات اور کمرشل سرگرمیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ انڈور اسپورٹس ارینا میں دو گھنٹے کے استعمال کا کرایہ 8 ہزار روپے وصول کیا جا رہا ہے جو عوامی پارک کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ہل پارک کو اصل حالت میں بحال کیا جائے اور بیچ ویو پارک میں میوزیم کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی 3 ایکڑ اراضی کی منتقلی کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔
