Karachi میں سندھ حکومت کی جانب سے جدید سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل سائٹ کے قیام کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے، جس کے تحت جام چاکرو میں پہلا سیل مکمل کر لیا گیا ہے اور مزید چار سیلز مرحلہ وار تعمیر ہوں گے، ترجمان Sindh Solid Waste Management Board نے بتایا۔
کراچی: نو پارکنگ میں موٹرسائیکلوں کی لفٹنگ پر پابندی، ڈی آئی جی ٹریفک کا نوٹیفیکیشن
ترجمان کے مطابق لینڈ فل سائٹ میں لیچیٹ مینجمنٹ اور گیس کلیکشن سسٹم کی تنصیب سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی ممکن ہوگی۔ 108 ہیکٹر پر پھیلے پرانے کچرے کو کیپ کرنے کا منصوبہ بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے اور عالمی بینک کی نگرانی میں پاک فلو پروجیکٹ کے تحت 20 ملین ڈالر فنڈنگ متوقع ہے۔ منصوبے سے کاربن کریڈٹس کے ذریعے آمدنی کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔
اندازے کے مطابق گوند پاس اور جام چاکرو سائٹس 2033 تک فعال رہنے کا امکان ہے جبکہ مستقبل کے لیے دھابیجی اور ٹھٹھہ کے قریب نئی لینڈ فل سائٹ کے لیے اراضی مختص کر دی گئی ہے۔ حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جدید اور ماحول دوست ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔

