کراچی: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے رواں سال کے لیے صدقۂ فطر، فدیۂ صوم اور کفارۂ روزہ کا نصاب جاری کر دیا ہے۔
کراچی میں رینجرز کی بڑی کارروائی، عامری ڈکیت گروہ کے 4 کارندے گرفتار
جاری اعلامیے کے مطابق گندم کا آٹا (چکی والا) 2 کلو کے حساب سے فی کس صدقۂ فطر اور ایک روزے کا فدیہ 300 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جَو (4 کلو) کے لحاظ سے یہ رقم ایک ہزار 160 روپے بنتی ہے، جبکہ کھجور (4 کلو) کے حساب سے فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ 2 ہزار 800 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کشمش عمدہ (4 کلو) کے حساب سے فطرہ اور فدیہ 7 ہزار 200 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
مفتی منیب الرحمان نے وضاحت کی کہ روزہ بلا عذر توڑنے کا کفارہ 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے۔ اس کا مالی نصاب اجناس کے حساب سے مختلف ہوگا۔ گندم کا آٹا (چکی والا) 2 کلو فی کس کے حساب سے مجموعی طور پر 18 ہزار روپے، جَو (4 کلو) کے حساب سے 69 ہزار 600 روپے، کھجور (4 کلو) کے حساب سے ایک لاکھ 68 ہزار روپے جبکہ کشمش (4 کلو) کے حساب سے 4 لاکھ 32 ہزار روپے بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فطرہ، فدیہ اور کفارہ کی کم از کم مقدار ہے۔ صاحبِ حیثیت افراد کو اپنی مالی استطاعت کے مطابق زیادہ ادا کرنا چاہیے، کیونکہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’جو خوش دلی سے زیادہ دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے‘‘ (البقرہ: 184)۔
صدر تنظیم المدارس نے مزید وضاحت کی کہ فدیہ دائمی مریض یا ایسے انتہائی ضعیف العمر افراد کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور صحت یابی کی امید بھی نہ ہو۔ تاہم عارضی مریض یا مسافر جو عذر کی بنا پر روزہ نہ رکھ سکیں، وہ صحت یاب ہونے یا سفر سے واپسی پر قضا ادا کریں گے، فدیہ اس کا متبادل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص بلا عذر روزہ توڑ دے اس پر ایک روزے کی قضا اور 60 مسلسل روزے بطور کفارہ لازم ہیں، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو مالی کفارہ ادا کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مارکیٹ میں اجناس کی قیمتیں اور کوالٹی کے لحاظ سے ردوبدل ممکن ہے، لہٰذا ادائیگی کرتے وقت موجودہ نرخوں کو مدنظر رکھا جائے۔
