سندھ ہائیکورٹ میں متروکہ وقف زمین پر غیر قانونی تعمیرات، ایس بی سی اے نے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کرلی

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں متروکہ وقف املاک کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ابتدائی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی اور جامع رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کر لی۔

کراچی میں رمضان کے دوسرے روز گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن، 216 دکانداروں پر 22 لاکھ روپے سے زائد جرمانے

ابتدائی رپورٹ میں ایس بی سی اے نے بتایا کہ متعلقہ بلڈنگ کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بجلی اور گیس فراہم کرنے والے اداروں کو کنیکشن منقطع کرنے کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور جگہ خالی کرانے کے نوٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 4 مارچ تک ملتوی کر دی۔

درخواست گزار عبدالواسع نے موقف اختیار کیا کہ پلاٹ نمبر آر سی ون 18 اے ماروک روڈ نزد وفاقی اردو یونیورسٹی متروکہ وقف املاک کی ملکیت ہے، اور اس پلاٹ پر تعمیرات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ متروکہ وقف زمین، جو پہلے سول اسپتال کے ڈاکٹروں کی رہائش اور نرسنگ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اب بھی سول اسپتال کے قبضے میں ہے لیکن اسے کمرشل استعمال کے لیے تبدیل کر کے غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “سندھ ہائیکورٹ میں متروکہ وقف زمین پر غیر قانونی تعمیرات، ایس بی سی اے نے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کرلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!