کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں متروکہ وقف املاک کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ابتدائی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی اور جامع رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کر لی۔
ابتدائی رپورٹ میں ایس بی سی اے نے بتایا کہ متعلقہ بلڈنگ کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بجلی اور گیس فراہم کرنے والے اداروں کو کنیکشن منقطع کرنے کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور جگہ خالی کرانے کے نوٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 4 مارچ تک ملتوی کر دی۔
درخواست گزار عبدالواسع نے موقف اختیار کیا کہ پلاٹ نمبر آر سی ون 18 اے ماروک روڈ نزد وفاقی اردو یونیورسٹی متروکہ وقف املاک کی ملکیت ہے، اور اس پلاٹ پر تعمیرات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ متروکہ وقف زمین، جو پہلے سول اسپتال کے ڈاکٹروں کی رہائش اور نرسنگ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اب بھی سول اسپتال کے قبضے میں ہے لیکن اسے کمرشل استعمال کے لیے تبدیل کر کے غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں۔
