امریکا کی ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر Lindsey Graham نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنے بیان سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی کا دفاع کیا اور اسے تاریخی جنگی مثالوں سے جوڑا۔
ایران کا دوٹوک مؤقف: جوہری تنازع کا حل صرف سفارت کاری، معاہدہ نہ ہوا تو دفاع کے لیے تیار ہیں، عباس عراقچی
میزبان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ 7 اکتوبر کے واقعے کے بعد غزہ میں جو کچھ ہوا—جس میں بچوں، خواتین اور غیر مسلح خاندانوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس شامل ہیں—کیا وہ مسیحی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے؟ اس پر سینیٹر گراہم نے جواب دیا کہ جنگ میں سخت فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دوسری عالمی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے World War II کے دوران جرمنی اور جاپان کے خلاف شدید بمباری کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے امریکا نے برلن اور ٹوکیو پر بمباری کی، اسی طرح اسرائیل بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ سینیٹر گراہم نے 7 اکتوبر کے حملے کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہی اقدامات کرتے جو اسرائیل نے کیے۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ فوجی کامیابی کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں زیادہ تر ری پبلکن رہنما اسی نقطۂ نظر سے متفق ہوں گے اور جب معاملہ “ریڈیکل اسلام” کا ہو تو وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
سینیٹر کے اس بیان پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں ناقدین اسے انسانی حقوق کے تناظر میں متنازع قرار دے رہے ہیں، جبکہ حامی اسے اسرائیل کے حقِ دفاع کی توثیق قرار دے رہے ہیں۔
