کراچی (نمائندہ خصوصی): شہر کے علاقے عزیز آباد، یونین کونسل 6 بھنگوریہ گوٹھ میں زیرِ زمین پانی کی کمرشل بنیادوں پر فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مبینہ طور پر پانی مافیا کھلے عام غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلا رہا ہے جبکہ متعلقہ ادارے تاحال خاموش ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کرائم سین یونٹ کا دورہ، سائنسی تحقیقات پر زور
ذرائع کے مطابق زیرِ زمین بورنگ کے ذریعے پانی نکال کر سوزوکیوں اور ٹینکروں کے ذریعے عزیز آباد کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بے دریغ پانی نکالنے کے باعث علاقے میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔
اہلِ محلہ کا الزام ہے کہ پانی مافیا مبینہ طور پر علاقہ پولیس اور Karachi Water and Sewerage Corporation کے گلبرگ واٹر افسران کی ملی بھگت سے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ کارپوریشن کا اینٹی تھیفٹ سیل بھی کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق کامران، انیس اور سلیم نامی افراد اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کامران اور سلیم نے اپنے گھروں سے غیر قانونی کنکشن فراہم کر رکھے ہیں اور روزانہ ہزاروں گیلن قیمتی زیرِ زمین پانی فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایک اور غیر قانونی ہائیڈرنٹ چلانے والے شخص نے مدرسوں اور مستحق افراد کو مفت پانی فراہم کرنے کی آڑ میں فی ٹینکر ایک ہزار روپے وصول کرنا شروع کر رکھا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ 4 نومبر 2025 کو Office of Assistant Commissioner Gulberg کی جانب سے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئر واٹر گلبرگ کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے تھے، تاہم تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ 27 نومبر 2025 کو بھی غیر قانونی سوائل واٹر ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی گئیں لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر سرد مہری اختیار کی گئی۔
علاقہ مکینوں نے ایم ڈی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کو تحریری درخواستیں بھی جمع کروا رکھی ہیں، مگر اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، پانی مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علاقے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

