کراچی — سانحہ گل پلازہ کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران چیف فائر افسر کی جانب سے تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔ جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کروانا فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
چیف فائر افسر کے مطابق فائر بریگیڈ حکام نے 2021 میں گل پلازہ میں فائر سیفٹی سروے کیا تھا، جس دوران ایس او پیز کے تحت فائر سیفٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سروے کے دوران سامنے آنے والے مشاہدات اور فائر سیفٹی انتظامات میں موجود خامیوں سے گل پلازہ کی انتظامیہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران فائر بریگیڈ نے جانفشانی کے ساتھ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں حصہ لیا۔ اس دوران فائر بریگیڈ کا ایک اہلکار فرقان آپریشن کے دوران شہید ہوا۔
چیف فائر افسر کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کی اطلاع رات 10 بج کر 26 منٹ پر موصول ہوئی، جبکہ پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 27 منٹ پر فوری طور پر روانہ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فائر بریگیڈ حکام نے 2021 اور 2022 کے دوران آئی آئی چندریگر روڈ، شارع قائدین اور شارع فیصل پر واقع عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی سروے کیے تھے۔ فائر سیفٹی سروے سے متعلق میٹنگز اور سروے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں کیے جاتے ہیں۔
چیف فائر افسر کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایات پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کے تحت فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر شاپنگ مالز اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کر رہی ہیں۔

