کراچی: سانحہ گل پلازہ میں شہید دو سگے بھائیوں خضر علی اور حیدر علی کی نماز جنازہ، پاکستان سنی تحریک کا مطالبہ

کراچی — سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والے دو سگے بھائی خضر علی بن خالد اور حیدر علی بن خالد کی نماز جنازہ جامع مسجد محمدی، زمیندار چوک گلبہار میں انتہائی رنج و الم کے ماحول میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی۔

کراچی: آرٹس کونسل میں بشیر سدوزئی کے سفرنامہ “روشنی کے تعاقب میں” کی رونمائی

اس موقع پر پاکستان سنی تحریک کے مرکزی کوآرڈینیٹر طیب حسین قادری، شہداء کے اہلخانہ، عزیز و اقارب اور عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑی تعداد موجود تھی۔ فضا سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔

نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طیب حسین قادری نے کہا کہ:
"جس گھر کا چراغ بجھتا ہے اس درد کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ماں باپ کے سامنے جوان اولاد کا دنیا سے چلے جانا قیامت سے کم نہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا سانحہ ہے۔”

انہوں نے سانحہ گل پلازہ کو محض حادثہ نہیں بلکہ مسلسل حکومتی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ قرار دیا۔ طیب حسین قادری نے کہا کہ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرتے، عمارتوں کا بروقت فائر آڈٹ کیا جاتا اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جاتا تو آج کئی گھر اجڑنے سے بچ سکتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا:
"ہر سانحے کے بعد بیانات اور کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں مگر عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جس میں مسلسل ناکامی ناقابل برداشت ہے۔ پیسہ کسی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، مگر جن گھروں کے کفیل دنیا سے رخصت ہو جائیں، ان خاندانوں کو سہارا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔”

پاکستان سنی تحریک حکومت سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور خاطر خواہ مالی امداد فراہم کی جائے، شہداء کے اہلخانہ کے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے اور مستقل بنیادوں پر ان کی کفالت کا بندوبست کیا جائے۔

مرکزی کوآرڈینیٹر نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔

طیب حسین قادری نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور سماجی تعاون جاری رکھے گی، اور شہداء کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی: سانحہ گل پلازہ میں شہید دو سگے بھائیوں خضر علی اور حیدر علی کی نماز جنازہ، پاکستان سنی تحریک کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!