وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، ڈی جی سیف سٹیز اتھارٹی سرفراز نواز اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔
گل پلازہ سانحہ: 55 سے 60 لاشیں نکالی جاچکیں، تحقیقات ہر پہلو سے جاری ہیں، ڈی سی ساؤتھ
اجلاس میں ڈی جی سیف سٹیز اتھارٹی نے کراچی سیف سٹی پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ پراجیکٹ کے کیمرے اور جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے اور ٹرائل مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دو ماہ کے اندر پراجیکٹ کو مکمل فعال کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ کے مطابق، پراجیکٹ میں 1300 کیمرے، 300 پول سائٹس اور شہر میں 254 کلومیٹر فائیبر کیبل نصب کی جا چکی ہیں۔ فیز ون میں 18 پوائنٹس آف پریزنس اور 23 ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں شامل ہیں جو آپریشنل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے ضروری عملے کی فوری بھرتی کی ہدایت کرتے ہوئے 34 ماہر تکنیکی و انتظامی افسران کی بھرتی کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ، 200 ملین روپے کا نظرثانی شدہ بجٹ بھی منظور کیا گیا۔ سیف سٹی اتھارٹی عارضی طور پر سینٹرل پولیس آفس سے کام کرے گی۔
ڈی جی سرفراز نواز نے بتایا کہ فیشل ریکگنیشن اور نمبر پلیٹ ریکگنیشن سسٹم مکمل فعال ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ حیدرآباد اور سکھر میں بھی سیف سٹی منصوبے لانے کے لیے کام جاری ہے اور صوبائی داخلی و خارجی راستوں پر اسمارٹ کیمروں کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔ سیف سٹی کی گاڑیاں ریپڈ رسپانس کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گی۔
