امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک، جن میں قطر اور عمان بھی شامل ہیں، نے ایران پر کسی امریکی فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کی ہے۔ عرب ممالک نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ عالمی آئل مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس سے امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔
کراچی: پپری پمپنگ اسٹیشن پر نئی پائپ لائن منصوبہ 95 فیصد مکمل، متاثرہ علاقوں میں پانی آج رات بحال
اخبار کے مطابق سعودی عرب نے تہران کو یقین دلایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گے اور امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ اقدام امریکی کارروائی کو روکنے اور خود کو اس سے دور رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
عرب ریاستوں کو خدشہ ہے کہ ایران پر حملہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر کرے گا، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی نقل و حمل کے لیے اہم ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف کسی مخصوص فوجی کارروائی کی نوعیت واضح نہیں کی، تاہم امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ حملے کا خطرہ موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ مختلف آرا سننے کے بعد خود فیصلہ کریں گے۔
گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے حکومت کی جانب سے احتجاج کو دبانے کی کوششوں کی مخالفت کی اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ‘مدد آ رہی ہے۔’
