امریکا میں سخت امیگریشن اقدامات، 8 ہزار طلبہ سمیت ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ

امریکا نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کرتے ہوئے 8 ہزار طلبہ سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے سال کے دوران یہ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
ایران سے تجارت پر نئی امریکی پابندیاں، چین کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں کاروبار اور سیاحت کے لیے آنے والے وہ افراد بھی شامل ہیں جو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں مقیم رہے۔ حکام کے مطابق ویزا منسوخی کا شکار ہونے والوں میں 8 ہزار طلبہ اور روزگار کے لیے آنے والے تقریباً 2 ہزار 500 افراد شامل ہیں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق ان افراد کی بڑی تعداد کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا مختلف قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود تھے۔ حکام نے بتایا کہ شراب نوشی کے دوران گاڑی چلانے، تشدد، چوری، بچوں سے بدسلوکی، منشیات کی تقسیم اور مالی بدعنوانی جیسے جرائم کی بنیاد پر بھی ویزے منسوخ کیے گئے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کو محفوظ بنانے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً 55 ملین ویزوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد امیگریشن پالیسی پر سختی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “امریکا میں سخت امیگریشن اقدامات، 8 ہزار طلبہ سمیت ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!