قومی پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) نے قومی بیانیے کے فروغ اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی مکمل یقین دہانی کرا دی ہے۔
امریکا میں سخت امیگریشن اقدامات، 8 ہزار طلبہ سمیت ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران فتنہ الخوارج، کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی کی صورتحال پر جامع گفتگو کی گئی، جس میں مشترکہ مؤقف کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں کشمیر اور غزہ کے معاملات پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ مظلوم اقوام کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ملاقات میں قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی اور پاک افواج سے غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ریاست دشمن اور گمراہ کن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
این پی اے سی نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔ کمیٹی نے منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کا پیغام ملک بھر میں پھیلانے کا اعلان کیا، جبکہ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
این پی اے سی نے ریاستی بیانیے کی مؤثر ترویج کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی پیش کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ ایک فیصلہ کن ہتھیار ہے۔ انہوں نے ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی امید ظاہر کی۔
