کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عبدالسمیع کر رہے تھے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی بھی شریک تھے۔
پی آئی بی کالونی پولیس کی انسانی ہمدردی کی مثال، لاوارث ملنے والا 7 سالہ بچہ والدہ کے حوالے
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کی ترقی کے لیے ایک جامع اور مربوط منصوبہ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہر کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکج دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے علاوہ 26 ارب 20 کروڑ روپے کی مزید رقم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری کے تحت کراچی میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور شہر کے تمام میگا منصوبوں کی عالمی معیار کے مطابق ڈیزائننگ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں سے کسی صورت کم نہیں ہونی چاہیے۔
اہم منصوبوں میں ایم نائن جناح ایونیو سے شاہراہ فیصل تک سڑک کی تعمیر شامل ہے، جو سپر ہائی وے اور شہر کی بڑی شاہراہوں سے منسلک ہوگی۔ اسی طرح ملیر ہالٹ پر پرنٹنگ پریس سے شاہراہ فیصل تک دائیں جانب انڈر پاس کی تعمیر کی جائے گی تاکہ ٹریفک کے شدید دباؤ اور بوتل نیک کو ختم کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے اسٹار گیٹ کی جانب فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، جس کے ذریعے ایئرپورٹ سے شاہراہ فیصل تک براہِ راست رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ وائی جنکشن سے مچھلی چوک تک ہاکس بے روڈ اور مسرور بیس سے ٹرک اسٹینڈ تک سڑک کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے، جو کمرشل اور ہیوی ٹریفک کے لیے معاون ثابت ہوگی۔
سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سہراب گوٹھ کراچی کا گیٹ وے ہے جہاں ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے، فلائی اوور کی تعمیر سے یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 84.7 ارب روپے کے پیکج کے تحت مزید 7 بڑے منصوبے شامل ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 443 اندرونی سڑکوں کی تعمیر، ٹریفک مینجمنٹ کے لیے 9 منصوبے اور کے ایم سی کی 26 سڑکوں کی تعمیر بھی کی جائے گی۔ پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز کی بہتری کے کام بھی جاری رہیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او کے انجینئرز، محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کے اعلیٰ افسران مشترکہ طور پر منصوبوں کی ڈیزائننگ کا کام فوری شروع کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی سے متعلق تمام مسائل فروری 2026ء تک مکمل کیے جائیں اور مارچ 2026ء سے ترقیاتی کام باقاعدہ طور پر شروع کر دیے جائیں۔
