وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے لاہور–اسلام آباد موٹروے (ایم ٹو) کے مختلف ریسٹ ایریاز کا دورہ کیا اور ریسٹ ہاؤسز کی خراب صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 15 روز کے اندر مشترکہ جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات اور تشہیر پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ایم ٹو پر روزانہ گزرنے والی گاڑیوں کی تعداد کے مطابق باہمی ڈیٹا مرتب کیا جائے تاکہ ریسٹ ایریاز کی ضروریات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے پر قائم ریسٹ ایریاز کی توسیع، تزئین و آرائش اور سہولیات کی بہتری ناگزیر ہے تاکہ مسافروں کو معیاری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
عبدالعلیم خان نے مزید ہدایت کی کہ موٹرویز پر تمام ریسٹ ایریاز میں شاپس کا لے آؤٹ یکساں ہونا چاہیے اور صارفین کو مقررہ سرکاری نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسافروں سے زائد قیمتیں وصول کرنے یا ناقص سہولیات کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
دورے کے دوران مختلف مقامات پر شہریوں اور مسافروں نے وفاقی وزیر سے گفتگو بھی کی۔ بھیرہ ریسٹ ایریا میں ایک اوورسیز پاکستانی نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ذرائع مواصلات کے شعبے میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، جو خوش آئند امر ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ موٹرویز پر سفر کرنے والے شہریوں کو بہتر، محفوظ اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
