وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی شکارپور شاہزیب چاچڑ اور ان کی پولیس ٹیم کو دولہے سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل میں ملوث ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانے پر شاباش دی ہے۔
رکن سندھ اسمبلی محمد عامر صدیقی نے چیئرمین جناح ٹاؤن کے خلاف انکوائری رپورٹ جمع نہ ہونے پر ACC-I سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ایس ایس پی شکارپور اور ان کی ٹیم نے بروقت اور جرات مندانہ کارروائی سے قانون کی بالادستی ثابت کی، جبکہ کچے کے علاقے میں جاری آپریشن سندھ پولیس کے عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت شکارپور پولیس کی کارکردگی قابلِ فخر ہے۔
تفصیلات کے مطابق، گزشتہ روز فائرنگ کے واقعے میں دولہے، اس کے کمسن بھائی اور ڈرائیور کے قتل میں ملوث ملزمان کو رستم کچے کے علاقے گاؤں عالم سعدخانانی میں جاری پولیس آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ ایس ایس پی شاہزیب چاچڑ کے مطابق پولیس کارروائی میں 4 ڈاکو مارے گئے اور 22 افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے 3 ڈاکوؤں کی نعشیں خانپور ہسپتال منتقل کر دی گئی، جبکہ چوتھے ڈاکو کی تلاش جاری ہے۔
ایس ایس پی شکارپور نے بتایا کہ ہلاک شدگان نہ صرف اس سنگین قتل میں ملوث تھے بلکہ وہ ڈکیتی، چوری اور دیگر سنگین جرائم میں بھی ملوث نکلے۔ ان کی شناخت کا عمل جاری ہے اور وہ جتوئی قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ کچے کے علاقے کا مکمل محاصرہ کر دیا گیا ہے اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔
شاہزیب چاچڑ نے کہا کہ قبائلی جھگڑوں کی آڑ میں خونریزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ شکارپور میں امن و امان قائم کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
