گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے مزید جنگی جہاز بھی گرائے جا سکتے تھے، تاہم پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی نے دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو قوم اور افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا لاپتہ افراد کے مسائل پر موقف
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا دیا ہوا ہے، جو آج بھی قومی یکجہتی اور جمہوریت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی کو اب اندازہ ہوچکا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم نے لحاظ کیا، ورنہ ان کے تمام جہاز مار گرائے جا سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے جیالے موجود ہیں۔ ہم نے ایسا آرمی چیف تعینات کیا جس نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت خود کو دنیا کی بڑی معیشت کہتا ہے، مگر چار دن کی جنگ بھی برداشت نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس وہ دل گردہ نہیں جو پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کے پاس ہے۔
آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر کوئی ہاتھ پاکستان کی طرف بڑھے گا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امن عزیز ہے، مگر دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ماضی میں ایک ناسمجھ حکمران نے چند برسوں میں دنیا بھر میں پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچایا، تاہم اب پاکستان دوبارہ وقار اور خودداری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
