چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اکانومی کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) کی جانب سے پاکستان بھر سے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لیے تقریباً 5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری حکومت کی طرف سے ایک مثبت اقدام ہے، جس کے لیے حکومت کے مشکور ہیں۔
ناظم آباد بڑے میدان میں مسجد کے باہر جمع سیوریج کا پانی، نمازی اور مکین مشکلات میں
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے اہل خانہ کی دادرسی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں پاکستان بھر میں لاپتہ افراد کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے بے گناہ لاپتہ سیاسی کارکنان کے خاندانوں کو بھی شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی کارکن ایم کیو ایم پاکستان کے ہیں، جو سالوں سے لاپتہ ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے جبری لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ بھی سالوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سرکاری دفاتر اور عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بتایا کہ اس ضمن میں ایم کیو ایم پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد جلد وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرے گا تاکہ لاپتہ افراد کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ شہری سندھ، خصوصاً کراچی سے لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکنان کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
