ناظم آباد اور اورنگ آباد میں پانی کا بدترین بحران خواتین اور بچے سڑکوں پر حکومتی خاموشی پر شدید تشویش

کراچی کے گنجان آباد علاقوں ناظم آباد اور اورنگ آباد میں پانی کی شدید قلت نے شہریوں کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ کئی ماہ سے جاری بحران کے باعث خواتین، معصوم بچے اور بزرگ شہری احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں اور سندھ حکومت کی خاموشی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کوبی مینو مانچسٹر یونائیٹڈ کا مستقبل ہیں منیجر روبن اموریم کا اعتماد

مقامی ذرائع کے مطابق ناظم آباد ٹاؤن اور اورنگ آباد کے علاقوں، خصوصاً چھوٹا میدان اور اطراف کی آبادیوں میں کئی کئی دن تک پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل رہتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی تقسیم میں کھلی ناانصافی کی جا رہی ہے، جہاں بااثر اور مخصوص علاقوں کو باقاعدگی سے پانی مل رہا ہے جبکہ اکثریتی آبادی شدید اذیت کا شکار ہے۔

علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے بعض اہلکار غیر قانونی واٹر مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر کے پانی کی لائنوں میں رد و بدل کر رہے ہیں۔ جان بوجھ کر رہائشی علاقوں میں پانی کا پریشر کم رکھا جاتا ہے تاکہ شہری مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور ہوں، جس کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔

تحریری شکایات میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اورنگ آباد کی سپلائی لائنیں کمرشل اور کاروباری علاقوں سے ہو کر گزرتی ہیں، جہاں رہائشی علاقوں تک پہنچنے سے قبل ہی پانی غیر قانونی طور پر استعمال ہو جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سپلائی لائنوں کی ازسرِنو ترتیب کا مطالبہ متعدد بار کیا گیا، مگر تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

شہریوں کے مطابق پانی جیسی بنیادی ضرورت کی عدم دستیابی نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ مساجد میں وضو کے لیے پانی نایاب، اسکولوں میں صفائی کے مسائل اور گھریلو نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جبکہ بزرگ اور بیمار افراد سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

عوامی حلقوں نے سندھ حکومت، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں، شفاف آڈٹ کرائیں اور واٹر مافیا و ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔

شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.54 PM

WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.55 PM 1

WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.56 PM WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.56 PM 1 WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.56 PM 2

WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.57 PM

WhatsApp Image 2025 12 26 at 5.53.58 PM

65 / 100 SEO Score

One thought on “ناظم آباد اور اورنگ آباد میں پانی کا بدترین بحران خواتین اور بچے سڑکوں پر حکومتی خاموشی پر شدید تشویش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!