27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں صدرِ مملکت کو تاحیات گرفتاری سے استثنیٰ دینے کی شق شامل کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 248 میں نئی شق (بی) کے تحت یہ ترمیم تجویز کی ہے۔
وادی تیراہ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن لیفٹیننٹ کرنل محمد حسن حیدر سمیت چار جوان وطن پر قربان
مجوزہ شق کے مطابق صدرِ مملکت کے خلاف تاحیات کسی بھی نوعیت کا مقدمہ درج یا قانونی کارروائی نہیں کی جا سکے گی، اور انہیں گرفتار بھی نہیں کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں مختلف شقوں کے اضافے اور اخراج کا عمل جاری ہے، جب کہ صدرِ مملکت کو تاحیات استثنیٰ دینے کی تجویز پر بعض سیاسی جماعتوں نے اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ شق صدر کے منصب کو مزید غیر جواب دہ بنائے گی، جب کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے آئینی تسلسل اور ادارہ جاتی احترام کو تحفظ حاصل ہوگا۔
