سربراہ پاکستان سنی تحریک علامہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ امریکہ اور بھارت ہمیشہ پاکستان مخالف شدت پسندوں اور دہشتگرد گروہوں کو مدد فراہم کرتے رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی مداخلت خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انتہائی قابلِ نفرت اور ناقابلِ برداشت عمل ہے۔
افواجِ پاکستان کا نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو خراجِ عقیدت 1948 کی جنگ کے ہیرو کی جرات و قربانی آج بھی مشعلِ راہ
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر اعتماد ظاہر کرنا محض فریب اور دھوکہ ہے۔ پاکستان میں کالعدم طالبان طرزِ فکر اور انتہا پسندی کی سوچ کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع قومی مشاورت اور واضح حکمتِ عملی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔
علامہ شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ اتحادِ اہلِ سنت کے لیے تمام سنی جماعتوں، علماء، مشائخ اور پیرانِ عظام کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے مرید کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت کو دیوار سے لگانے اور بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو پاکستانی افواج بھرپور اور منہ توڑ جواب دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی عدالتِ انصاف دنیا میں امن قائم رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں، جبکہ عالمی اداروں کا مسلمان ممالک سے متعصبانہ رویہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہزاروں مسلمانوں کی شہادتوں کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔ اسرائیل امریکی ایماء پر غزہ میں ایک بار پھر جنگ مسلط کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
علامہ شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کبھی پاکستان کا خیرخواہ نہیں رہا، 1980ء میں بویا گیا غلط بیج آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور ریاستوں کو حاصل ویٹو پاور امتیازی رویے کی علامت ہے جو کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔
علامہ شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ امریکہ اسلحہ فروخت کرنے کے لیے جنگی ماحول پیدا کر رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دنیا میں اسلحہ کی دوڑ کے خاتمے اور انصاف کی بالادستی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے
