سندھ ہائیکورٹ میں عزیر بلوچ کے شریک ملزم عبدالعزیز کی 6 مقدمات میں درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔
میئر کراچی کی ہدایت پر تمام قبرستانوں کی ازسرنو رجسٹریشن کا فیصلہ غیر رجسٹرڈ قبرستانوں کو نوٹس جاری
سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر رانا خالد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم 13 سال تک مفرور رہا، لہٰذا وہ ضمانت کا حق دار نہیں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس کی بکتر بند گاڑی پر حملہ کیا تھا، جس سے گاڑی تباہ اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔ مزید بتایا گیا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا اسلحہ 5 مقدمات کے خولوں سے میچ کر گیا ہے، جبکہ اس کا ساتھی عزیر بلوچ پہلے سے جیل میں ہے۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الزامات بے بنیاد اور شواہد ناکافی ہیں، تاہم پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف لیاری کے مختلف تھانوں میں 6 مقدمات درج ہیں جن میں پولیس اہلکار کے قتل سمیت دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عبدالعزیز کی تمام 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔