وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کراچی سیف سٹی منصوبے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے، اس لیے شہریوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ایس ایس پی سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی کا ناگن چورنگی فائرنگ واقعے کے مقام کا دورہ ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت
اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو، سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کے ڈی جی آصف اعجاز شیخ اور دیگر حکام شریک تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کا فیز ون 31 مئی 2024 کو شروع ہوا تھا، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں، پولز، سرورز اور ڈیٹا اسٹوریج کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے۔ تجزیاتی ٹولز کی تنصیب جاری ہے جبکہ فیشل ریکگنیشن اور گاڑیوں کی ٹریکنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ منصوبے کے تمام سول ورکس اور آلات کی تنصیب کا عمل تیز کیا جائے اور 30 نومبر 2025 تک ویڈیو سرویلنس سسٹم مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ پولیسنگ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا بیسز کو مربوط کیا جائے اور ڈیٹا ٹرانسمیشن کے لیے نیٹ ورک کنیکٹیویٹی کو بہتر بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے فیز ٹو کے توسیعی منصوبے کی بھی منظوری دی اور آئی جی پولیس کو بجٹ اور افرادی قوت کی تفصیلات جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ فیز ٹو میں مزید علاقوں کو شامل کیا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ شہری سلامتی، جرائم کی روک تھام اور ٹریفک مینجمنٹ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ معیار اور ڈیڈ لائن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس منصوبے کو ایک ماڈل پروجیکٹ کے طور پر مکمل تعاون کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
