افغان صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والا نوجوان شدت پسند نیٹ ورک کا حصہ نکلا سیکیورٹی فورسز نے بڑا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا

سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ایک اہم شدت پسند نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افغان شہری نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندھار سے بتایا گیا ہے۔|
کراچی میں ملائیشیا کے قونصلیٹ جنرل کی جانب سے ہری سکن نگرا 2025 کا شاندار انعقاد

ابتدائی تفتیش میں ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ قندھار کے ایک مدرسے جوہریہ کا طالب علم تھا، جہاں وہ حفظِ قرآن کر رہا تھا۔ اعترافی بیان کے مطابق، مدرسے میں بعض افراد نے انہیں پاکستانی افواج کے خلاف جہاد کو جائز قرار دیا، جس کے بعد وہ دیگر نوجوانوں کے ساتھ انتہا پسند کارروائیوں کا حصہ بن گیا۔

نعمت اللہ نے بتایا کہ ان کے گروپ میں 20 نوجوان شامل تھے، جن کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان تھیں، جبکہ مجموعی طور پر 40 افراد خوست میں اکٹھے ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے سرحد عبور کر کے جنوبی وزیرستان کا رخ کیا، جہاں مختلف مقامات پر کمانڈر عمر حماس کی زیرِ نگرانی تربیت دی گئی۔

ملزم نے مزید بتایا کہ دورانِ تربیت ایک وقت ایسا آیا جب اذان کی آواز سن کر اسے احساس ہوا کہ پاکستانی فوج بھی مسلمان ہے اور ان پر حملہ کرنا حرام عمل ہے۔ یہی احساس اس کی گرفتاری اور انکشافات کا باعث بنا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق، گرفتار ملزم کے اعترافی بیانات تفتیش کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں اور دشمن عناصر کے بھرتی و تربیتی نیٹ ورک کی مزید تفصیلات سامنے لانے میں مدد فراہم کریں گے۔

فرنٹیئر کور ساؤتھ کے حکام نے بتایا کہ یہ نیٹ ورک کم عمر افغان نوجوانوں کو مذہبی اور نظریاتی طور پر متاثر کر کے دہشتگردی کی سرگرمیوں میں استعمال کر رہا تھا۔

حکام نے اس گرفتاری کو علاقائی سیکیورٹی کے لیے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب اور ناکام بنانا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں پیشرفت ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق، ملزم کے بیان کی روشنی میں دیگر مطلوب افراد اور رابطوں کی نشاندہی کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “افغان صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والا نوجوان شدت پسند نیٹ ورک کا حصہ نکلا سیکیورٹی فورسز نے بڑا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!