کراچی (اسٹاف رپورٹر) ماہرینِ معاشیات اور قومی سلامتی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ہونے والی بے ضابطہ اسمگلنگ پاکستان کی معیشت اور داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ غیر قانونی اشیاء — جن میں ٹائر، الیکٹرانکس، کپڑے اور دیگر صنعتی مصنوعات شامل ہیں — کی بڑی وارداتوں نے مقامی صنعتوں کو منڈی سے بے دخل کر دیا ہے اور روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔
اقتصادی شواہد کے مطابق اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ تجارتی حلقوں اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مصنوعات مقامی صنعتوں کے لیے غیر منصفانہ مقابلہ پیدا کر رہی ہیں اور مقامی مصنوعات کی پائیداری خطرے میں پڑ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ جولائی 2025 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حجم میں ماہانہ بنیادوں پر 78 فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا، جو ماہرین کے بقول اس امر کا عندیہ ہے کہ کریک ڈاؤن کے بعد ایک محدود دورانیے کے لیے تجارت دوبارہ قانونی راستوں کی طرف منتقل ہوئی ہے، تاہم مسئلے کی جڑیں ابھی برقرار ہیں۔
قومی سلامتی کی رپورٹس میں یہ تشویشناک انکشاف بھی شامل ہے کہ بعض افغان عناصر کے اور بیرونی قوتوں یا علاقائی گروہوں کے مابین روابط کی اطلاعات ملی ہیں، جن کے نتیجے میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور سماجی بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ جب غیر قانونی اسمگلنگ منظم نیٹ ورکس کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ محض اقتصادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی سلامتی تک اثر انداز ہوتا ہے۔
عوامی ردِ عمل میں مطالبات واضح ہیں — تجارتی ضوابط کا سخت نفاذ، غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف موثر کردار، اور ان افراد کے لیے واضح پالیسی جو ملک کے حوالے سے خطرہ بن گئے ہوں۔ کئی شہری اور تاجر سمجھتے ہیں کہ "مہمان نوازی” کے روایتی تقاضوں اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مقدم رکھتے ہوئے بھی اب ایک متوازن، قانون پر مبنی عمل اپنانا ضروری ہے، جس میں شواہد کی بنیاد پر کارروائی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کا خیال رکھا جائے۔
ماہرینِ معاشیات اور سکیورٹی اینالسٹس دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس بحران کا حل صرف سخت انتظامی اقدامات تک محدود نہیں ہو سکتا — اس کے لیے درکار ہے:
-
باہمی سرحدی کوآرڈینیشن اور اسٹریٹجک انٹیلی جنس شیئرنگ؛
-
ٹرانزٹ ٹریڈ کے شفاف اور قابلِ نگرانی نظام کا قیام؛
-
مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور منڈی میں برابری کے مواقع یقینی بنانا؛
-
متاثرہ افراد کی شناسائی کے بعد قانونی اور انسانی نقطۂ نظر سے حل، بشمول ریپٹری ایشن یا ریہیبِیلی ٹیشن کے واضح ضوابط۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسمگلنگ کے اقتصادی اور سیکیورٹی دونوں پہلوؤں کو یکجا کرکے حل نہ کیا گیا تو اس کے دوررس منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ معاملات کی سیاسی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف، آئینی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق پالیسی اپنائیں۔
