قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اپوزیشن ارکان نے قائدِ ایوان کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دے کر اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا اور وزارتِ اعلیٰ کے نامزد امیدواروں کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا۔
Monday, 13th October 2025
الیکشن کے عمل کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ حلقہ پی کے-70 کے رکن سہیل آفریدی نے ایوان کے 145 ارکان میں سے 90 ووٹ حاصل کر کے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہو گئے ہیں۔ سہیل آفریدی ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے صوبے کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بن گئے ہیں۔ منتخب ہونے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے انہیں مبارکباد پیش کی۔
قبل ازیں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دے دیا ہے اور جب استعفہ منظور اور کابینہ تحلیل ہو گی تو نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور پی ٹی آئی خود انتخابی عمل کو مشکوک بنا رہی ہے۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ نئے قائدِ ایوان کا انتخاب قانون اور آئین کے مطابق ہے۔ اسپیکر نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے دو بار اپنا استعفیٰ گورنر کو بھیجا اور اسمبلی فلور پر بھی مستعفی ہونے کی تصدیق کی، اسی بنیاد پر انہیں مستعفی قرار دیا جاتا ہے۔ اسپیکر نے آئین کے آرٹیکل 130(8) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری کے لیے کوئی اضافی شرط آئین میں نہیں دی گئی۔
اپوزیشن ارکان کے واک آؤٹ کے بعد اسمبلی میں حاضری بڑھانے کے لئے گھنٹیاں بجائی گئیں۔
مستعفی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خطاب میں سہیل آفریدی کو پیشگی مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ 8 اکتوبر کو دیا تھا۔ گنڈاپور نے کہا کہ جمہوری عمل کا مذاق نہ اُڑایا جائے، ان کے دور میں کیے گئے کام ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور انہوں نے صوبے کی ترقی کے لیے مالیاتی انتظامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی قوتوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔
