کراچی: تین برسوں میں ساڑھے تین سو پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات، ڈیڑھ ارب کی رشوت کا انکشاف — نیب تحقیقات

کراچی — قومی احتساب بیورو (نیب) کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران شہر کے چھ اضلاع میں 350 سے زائد پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کی گئیں اور اس پورے عمل میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد رشوت تقسیم کی گئی۔

قائدآباد پولیس کی کارروائی، گٹکا ماوا فروشی میں ملوث ملزم گرفتار

تحقیقات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرلز اسحاق کھوڑو اور عبدالرشید سولنگی سمیت ادارے کے کئی افسران اس بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ نیب کی رپورٹ میں یہ بھی واضح ہوا ہے کہ ایس بی سی اے کرپشن، سفارش اور اثر و رسوخ کے گٹھ جوڑ کا مرکز بن چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب نے 16 ستمبر 2025 کو ایس بی سی اے سے 30 ستمبر تک کراچی کے سات میں سے چھ اضلاع شرقی، جنوبی، وسطی، غربی، کورنگی اور ملیر میں غیر قانونی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا، تاہم ادارے نے تاحال مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کے بجائے معاملے کو طول دینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔

ابتدائی فہرست میں انکشاف ہوا ہے کہ ضلع وسطی میں سب سے زیادہ 117 غیر قانونی تعمیرات ریکارڈ ہوئیں، جن میں نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد اور فیڈرل بی ایریا شامل ہیں۔ ضلع شرقی میں 70، جنوبی میں 63، غربی میں 37، کورنگی میں 41 اور ملیر میں 29 غیر قانونی تعمیرات سامنے آئیں۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ قیمتی رہائشی اور کمرشل پلاٹوں پر ہونے والی تعمیرات ایس بی سی اے افسران کی ملی بھگت اور چشم پوشی سے ممکن ہوئیں۔ حیران کن طور پر ایس بی سی اے نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کا یہ نیٹ ورک صرف افسران تک محدود نہیں، بلکہ صحافیوں، پولیس اہلکاروں، سیاسی نمائندوں اور بعض سماجی شخصیات کے دباؤ سے بھی مضبوط ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض پلاٹ بڑے میڈیا گروپس، ڈمی چینلز، یوٹیوبرز، اینٹی کرپشن افسران اور بااثر سیاسی شخصیات کے دباؤ پر الاٹ کیے گئے۔ اس فہرست میں آباد سے منسلک بااثر بلڈرز کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے اربوں روپے کی غیر قانونی تعمیرات کو قانونی رنگ دینے کے لیے ادارے کے اندرونی عناصر سے ملی بھگت کی۔

تفتیشی افسران کے مطابق گزشتہ تین برس میں ہونے والی ان غیر قانونی تعمیرات میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد رشوت تقسیم کی گئی، تاہم اس “رقم کے اوپر تک” پہنچنے والے اصل حصے کا اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے کی خاموشی اور ریکارڈ جمع کرانے میں تاخیر ظاہر کرتی ہے کہ کرپشن کا یہ جال محض چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک پورا نظام اس میں شریک ہے — ایسا نظام جو پلاٹوں کی نہیں بلکہ ضمیر کی قیمت پر چل رہا ہے۔

70 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی: تین برسوں میں ساڑھے تین سو پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات، ڈیڑھ ارب کی رشوت کا انکشاف — نیب تحقیقات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!