لاہور (کورٹ رپورٹر) — ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ بیانیہ تیار کرنے کے کیس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید سے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فلک جاوید سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ یہ بیانیہ کس کے ایماء پر تشکیل دیا گیا اور اس کے پیچھے کیا محرکات کارفرما ہیں۔ فلک جاوید دو مقدمات میں این سی سی آئی اے کو مطلوب تھیں اور گرفتاری کے بعد ان کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا۔
دوسری جانب فلک جاوید نے اپنے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کو لاہور کی سیشن کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ انہوں نے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کے ذریعے اپیل دائر کی جس پر عدالت نے این سی سی آئی اے سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے مدعی مقدمہ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اپیل کنندہ کا مؤقف ہے کہ مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ غیرقانونی طور پر دیا، لہٰذا عدالت اسے کالعدم قرار دے۔ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔