نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بھارت کی فلسطین پالیسی کو ’’شرمناک‘‘ اور ’’اخلاقی بزدلی‘‘ قرار دیا ہے۔
مزمل حسین ہالیپوٹو ڈی جی ایس بی سی اے تعینات، شفافیت اور میرٹ کے فروغ کا عزم
کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ بھارت 1988 میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا، لیکن پچھلے 20 ماہ میں حکومت نے اپنے بہادرانہ مؤقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ ان کے مطابق فلسطین کے حوالے سے بھارتی مؤقف کا یہ تنزل نہ صرف افسوسناک بلکہ مایوس کن ہے۔
کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں اور مزید ممالک کے شامل ہونے کی توقع ہے، مگر بھارت اپنی تاریخی پالیسی سے انحراف کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 18 نومبر 1988 کو باضابطہ طور پر فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ تاہم کانگریس کا مؤقف ہے کہ حالیہ عرصے میں بھارتی حکومت اسرائیل کے غزہ میں اقدامات پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
گزشتہ ماہ بھی کانگریس نے مودی حکومت کے رویے کی مذمت کی تھی جبکہ پریانکا گاندھی نے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ادھر معروف بھارتی اداکار پراکاش راج نے بھی فلسطین میں جاری نسل کشی کا ذمہ دار اسرائیل کے ساتھ امریکا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو قرار دیا تھا۔
