کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے سیکٹر 11-I اور اطراف میں قائم کچرا کنڈیوں اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر سینی ٹیشن محمد مُشتاق خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے نیپرا کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن کچرے کے ڈھیروں، بدبو اور تعفن سے دوچار ہے، جس نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) شہریوں کی توقعات پر پورا نہیں اترا اور اس کی ناقص کارکردگی پر عوام اور بلدیاتی نمائندے دونوں سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔
چیئرمین نے کہا کہ سندھ حکومت نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اس امید پر قائم کیا تھا کہ گلی کوچے صاف ہوں گے اور کچرا بروقت اٹھایا جائے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بورڈ نے رہائشی علاقوں کے بیچ ڈمپنگ پوائنٹس بنا دیے ہیں جس سے نہ صرف بدبو پھیل رہی ہے بلکہ بچے اور شہری بیمار ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکولز اور کالجز کے اطراف گندگی سے تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ مزید برآں، بورڈ کے بھاری ٹریکٹرز اور گاڑیوں نے کچرا اٹھانے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ سیوریج، پانی اور گیس کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جس سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
محمد یوسف نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو فوری ختم کرکے نظام دوبارہ بلدیاتی اداروں کے حوالے کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس سینی ٹیشن ڈپارٹمنٹ اور تجربہ موجود ہے، اگر حکومت وہی فنڈز ٹاؤن سطح پر فراہم کرے تو ہم نیو کراچی ٹاؤن کو صاف ستھرا بنا سکتے ہیں۔”
انہوں نے وزیر بلدیات سندھ مرتضیٰ وہاب سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں، عوامی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرکے حکمت عملی تیار کریں اور شہریوں کو کچرے اور تعفن سے نجات دلائیں۔
