لاہور / ملتان / رحیم یار خان — پنجاب میں حالیہ طوفانی بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث وسیع پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب اپنی حدود سے تجاوز کر گئے، جس سے ہزاروں دیہات ڈوب گئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔
کراچی: شاہ لطیف ٹاؤن میں فائرنگ، پولیس اہلکار شہید
پنجند ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا، جب کہ صرف 24 گھنٹوں میں ایک لاکھ کیوسک کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ علی پور، شجاع آباد اور مظفر گڑھ سمیت متعدد اضلاع میں بڑے پیمانے پر انخلا کیا گیا۔ شجاع آباد کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے نچلی بستیاں زیرِ آب آگئیں۔
دریائے چناب اور ستلج کے کئی مقامات پر درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جب کہ سندھ کے گڈو اور سکھر بیراجز پر بھی پانی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق رحیم یار خان میں چچران شریف سے 6 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، تاہم مقامی علاقوں کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے بتایا کہ صوبے بھر میں 4 ہزار 500 سے زائد دیہات اور 42 لاکھ 87 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 22 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ صوبے میں 396 ریلیف کیمپ، 490 میڈیکل کیمپ اور 412 ویٹرنری کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ اب تک 79 افراد جاں بحق اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق صرف ملتان میں تین دنوں کے دوران 13 ہزار سے زائد افراد کو نکالا گیا، جب کہ پورے صوبے میں 3 لاکھ 62 ہزار افراد کو 139 کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ جلال پور پیر والا میں ریسکیو کشتی کے الٹنے سے متعدد افراد جاں بحق اور لاپتا ہوئے۔
بلوچستان میں بھی شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی کے بعد پی ڈی ایم اے نے وارننگ جاری کر دی ہے۔ حب ڈیم کی سطح 338 فٹ تک پہنچ گئی ہے اور اسپیل ویز کھولنے کی تیاری مکمل ہے۔ ناصرباد، صحبت پور اور جعفر آباد میں ایمرجنسی انتظامات اور 16 فلڈ کنٹرول سینٹر قائم کر دیے گئے ہیں۔
