لوئر دیر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن، 7 ایف سی اہلکار شہید، 13 زخمی

لوئر دیر / تیمرگرہ — لوئر دیر کے علاقے میدان، سر بانڈہ میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران جھڑپ میں کم از کم 7 فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکار شہید اور 13 زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

Friday, 12th September 2025

رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں نے لال قلعہ تھانہ کی حدود کے پہاڑی علاقے میں مورچے بنا کر سیکیورٹی قافلے پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طور پر لال قلعہ اسپتال اور بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال تیمرگرہ منتقل کیا گیا۔ پولیس، ایلیٹ فورس اور دیر اسکاؤٹس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور آپریشن بدستور جاری ہے۔

سیکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے فوری تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ لال قلعہ ماضی میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کا گڑھ رہا ہے، جس کی قیادت مولانا صوفی محمد کرتے تھے، جب کہ ان کے داماد ملا فضل اللہ بعد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے۔

پولیس چوکی پر حملہ

علاوہ ازیں، شدت پسندوں نے لجبوک پولیس پوسٹ پر بھی حملہ کیا۔ کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا تاہم اہلکاروں نے حملہ پسپا کردیا۔ پولیس کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ

ضلعی انتظامیہ نے جمعرات کو ضلع بھر میں ڈرون، کواڈ کاپٹرز اور غبارے اُڑانے پر پابندی لگا دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عارف خان نے واضح کیا کہ خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

جنوبی وزیرستان میں جرگے کا فیصلہ

دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں توجی خیل قبیلے کے مشران نے جرگے میں فیصلہ کیا ہے کہ اپنی زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ قبیلے نے خبردار کیا کہ دہشت گرد یا تو علاقہ چھوڑ دیں یا جلاوطنی کے لیے تیار رہیں۔

اعلان کیا گیا کہ جو بھی دہشت گردوں کو کھانے، پناہ یا مدد فراہم کرے گا، اس پر 20 لاکھ روپے جرمانہ اور مکان کی مسماری کی سزا دی جائے گی۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “لوئر دیر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن، 7 ایف سی اہلکار شہید، 13 زخمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!