حکومت نے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی قائم کردی، علما، غیر مسلم رہنما اور حکام شامل

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) حکومت نے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کے لیے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) تشکیل دے دی۔ اس کمیٹی میں علما، غیر مسلم برادریوں کے رہنما اور سینئر حکام شامل ہوں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا متنازع بیان: قطر میں حماس پر حملے کو اسامہ بن لادن آپریشن سے تشبیہ

 وزارتِ اطلاعات کے تحت قائم این پی اے سی کو ذیلی کمیٹی کے طور پر نیشنل کمیٹی برائے نیریٹیو بلڈنگ (این سی این بی) کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا مقصد امن، مذہبی ہم آہنگی اور اعتدال پسندی کو فروغ دینے کے لیے متحدہ قومی بیانیہ تیار کرنا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی کو میڈیا، ابلاغ اور سائبر نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بیانیے کا مقابلہ کرنے اور نیشنل ایکشن پلان 2021 کے ترمیمی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

20 رکنی کمیٹی میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزرائے اطلاعات سمیت وفاقی وزیرِ اطلاعات، فوج، خفیہ ایجنسیوں، وزارتِ خارجہ، وزارتِ آئی ٹی اور پی ٹی اے کے نمائندے شامل ہیں۔ وزارتِ اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل (انٹرنل پبلسٹی ونگ) کمیٹی کے سیکریٹری ہوں گے جبکہ مولانا طاہر اشرفی کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے پہلے اجلاس میں قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے جو بعد ازاں این سی این بی کو منظوری کے لیے بھیجے جائیں گے۔

علمائے کرام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پیغامِ پاکستان 2018 کے تسلسل میں ہے جس کا مقصد مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا تھا۔ علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اس بار کمیٹی کا ہدف عملی اقدامات پر مرکوز ہوگا۔

مولانا طاہر اشرفی کے مطابق حکومت امن کے قیام کے لیے جامع حکمت عملی چاہتی ہے اور یہ کمیٹی مذہبی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی انتہا پسندی کے خلاف قومی کوششوں کو یکجا کرے گی۔

دوسری جانب سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی۔ حکام کے مطابق ترامیم کے بعد صوبائی سطح پر درج مقدمات کالعدم ہیں اور صرف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو یہ اختیار حاصل ہے۔ اس وقت 10 صحافیوں سمیت 611 مالیاتی فراڈ اور 320 ہراسانی کے کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔

کمیٹی چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر نے ہدایت دی کہ صوبائی حکام کی جانب سے پیکا کے تحت درج 378 غیر قانونی مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “حکومت نے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی قائم کردی، علما، غیر مسلم رہنما اور حکام شامل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!