کراچی (اسٹاف رپورٹر) فلکیات کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری، اتوار کی رات مکمل چاند گرہن کے دوران ’خونی چاند‘ کا شاندار نظارہ کیا جا سکے گا۔ یہ گرہن ایشیا کے بڑے حصوں، یورپ کے کچھ حصوں اور افریقہ میں دیکھا جائے گا۔
راولپنڈی: کمسن طالبعلم کے قتل پر مجرم کو 3 بار سزائے موت
ماہرین کے مطابق جب سورج، زمین اور چاند ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں تو زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے، جس سے وہ گہرا سرخ دکھائی دیتا ہے۔ یہی منظر ہزاروں برسوں سے انسانوں کو مسحور کرتا آیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت اور چین سمیت ایشیا کے ممالک میں یہ منظر سب سے زیادہ واضح ہوگا۔ یہ گرہن مشرقی افریقہ، مغربی آسٹریلیا اور پاکستان میں بھی دکھائی دے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق مکمل چاند گرہن رات 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا اور 11 بج کر 52 منٹ تک جاری رہے گا۔
یورپ اور افریقہ کے بیشتر حصوں میں ناظرین کو یہ گرہن صرف جزوی طور پر نظر آئے گا، جبکہ امریکا میں لوگ اس منفرد فلکیاتی منظر سے محروم رہیں گے۔
ماہر فلکیات رائن ملیگن کے مطابق چاند کا سرخی مائل ہونا زمین کے ماحول سے گزرنے والی روشنی کی وجہ سے ہے، کیونکہ نیلی شعاعیں زیادہ بکھر جاتی ہیں اور سرخ شعاعیں آگے بڑھ کر چاند کو ’خونی‘ سا رنگ دے دیتی ہیں۔
چاند گرہن کے مشاہدے کے لیے کسی خاص چشمے یا آلے کی ضرورت نہیں، صرف صاف موسم اور کھلی جگہ کافی ہے۔ یہ اس سال کا دوسرا اور آخری مکمل چاند گرہن ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر اگست 2026 میں ہونے والے نایاب سورج گرہن کی جھلک پیش کرتا ہے، جب یورپ کے کچھ حصوں میں چاند سورج کی روشنی کو مکمل طور پر چھپا دے گا۔
