اسلام آباد (اسٹاف رپورٹ) پاکستان میں مزید صوبے بنانے کی ضرورت پر جاری بحث نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ دراصل گورننس کے مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ سیاسی و لسانی مفادات کی عکاسی ہے۔
نائیجیریا میں کشتی الٹنے سے 60 افراد جاں بحق، درجنوں کو بچا لیا گیا
حالیہ دنوں پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے اپنے کالم میں لکھا کہ نئے صوبے بنانے والے یہ تاثر دیتے ہیں کہ تمام انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے، لیکن اس خیال کی عملی حیثیت مشکوک ہے۔ سیاسی تجزیہ کار نجم سیٹھی کا بھی کہنا ہے کہ ملک میں نسلی سیاست اور ذیلی قوم پرستی کے جذبات اتنے گہرے ہیں کہ مرکزی حکومت کسی بڑے معاہدے تک نہیں پہنچ سکتی۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس موضوع سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اپنا ووٹ بینک کھو دیں گی۔ تاہم ایم کیو ایم ہمیشہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جس کی کسی نہ کسی وقت شہری متوسط طبقے نے حمایت بھی کی۔
تاریخی اعتبار سے کراچی کی حیثیت بار بار بدلی ہے۔ 1840ء میں انگریزوں نے اسے سندھ کا دارالحکومت بنایا، 1936ء میں سندھ دوبارہ صوبہ بنا تو کراچی بھی اس کا مرکز قرار پایا، مگر 1948ء میں وفاقی حکومت نے کراچی کو الگ کر کے وفاقی دارالحکومت بنا دیا۔ بعد ازاں 1970ء میں ایک بار پھر کراچی سندھ کا دارالحکومت قرار پایا۔
شہر کی لسانی ترکیب بھی بدلتی رہی ہے۔ 1951ء میں مہاجر آبادی 60 فیصد تھی جو 2017ء میں 42 فیصد رہ گئی، تاہم 2023ء میں یہ شرح دوبارہ 50 فیصد ہو گئی۔ اس دوران پختون برادری کراچی کی دوسری بڑی لسانی قوت بن گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی حیثیت کو ایک بار پھر بدلنے کی کوشش تاریخ کے بھاری دباؤ کے باعث کبھی بھی آسان ثابت نہیں ہو سکتی۔
