شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے چناب، راوی اور ستلج میں تباہ کن سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ہیڈ خانکی پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا جو ڈیزائن کردہ گنجائش 8 لاکھ کیوسک سے کہیں زیادہ ہے، این ڈی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہیڈ ورکس کا ہائیڈرولک ڈھانچہ متاثر ہوسکتا ہے۔
Wednesday 27th Aug
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، گوجرانوالہ میں ہیڈ قادرآباد کو بچانے کے لیے کنٹرولڈ دھماکے سے شگاف ڈالا گیا تاکہ دباؤ کم کیا جاسکے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ اور موٹروے ٹو کے نشیبی علاقے زیرِ خطر ہیں، سول ڈیفنس نے سائرن بجا کر عوام کو خبردار کردیا ہے۔
نارووال میں خواتین اور بچوں سمیت 50 افراد کو ریسکیو 1122 نے بچایا جبکہ ایم پی اے احمد اقبال لہڑی بھی متاثرہ علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کیے گئے۔ ننکانہ صاحب، قصور، شکر گڑھ اور دیگر اضلاع میں درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے، کئی مقامات پر زرعی زمینیں اور فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ کرتارپور کا علاقہ مکمل طور پر زیرِ آب آگیا اور گوردوارہ دربار صاحب بھی ڈوب گیا۔
پنجاب کے آٹھ اضلاع لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، قصور، اوکاڑہ، حافظ آباد اور سرگودھا میں فوج طلب کرلی گئی ہے۔ پاک فوج متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے اور ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کے دورے کریں اور انخلا، ریسکیو و ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کریں۔ وزیراعظم نے اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
