اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کی زمینوں پر قبضوں، واجبات کی عدم وصولی اور حدید ویلفیئر ٹرسٹ کے انضمام میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر نے معاملہ وزیراعظم، استحقاق کمیٹی اور ایف آئی اے کو بھیجنے کا اعلان کیا۔
آڈٹ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اسٹیل ملز کی اراضی پر قبضوں اور نجی افراد کو 194 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ پر انکوائریاں جاری ہیں، جبکہ کنٹری کلب اور این ٹی ڈی سی سے اربوں روپے واجبات کی وصولی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ سیکریٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کے خلاف ڈسپلنری کارروائی اور ریکوری یقینی بنائی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حدید ویلفیئر ٹرسٹ کے انضمام سے قومی خزانے کو 16 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچا جبکہ 343 ملازمین کو غیر قانونی طور پر اسٹیل ملز کے پے رول پر منتقل کیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے سپرد کر دیا۔
اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بارشوں اور سیلاب کی شدت 22 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث چترال اور اسکردو زیادہ خطرناک علاقے ہو سکتے ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ملک میں 7500 سے زائد گلیشیئرز ہیں جو تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں خشک سالی، فوڈ سیکیورٹی اور پانی کے بحران جیسے خطرات بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کو نیشنل سیکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
مزید بتایا گیا کہ دریائے ستلج کے اطراف سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان فراہم کیا جا چکا ہے۔
